Wednesday, 5 August 2015

The World wide Movement Of Propagating Quran And Sunnah

Dawat-e-Islami is a worldwide, non-political movement of propagating Quran & Sunnah. In the era of evils, when the tides of decadent ways are rising throughout the world, when mass media is using its resources to spread indecency, when the majority of Muslims continue to adopt immodesty in the name of fashion. In times like these, when the Muslims are eager to gain merely worldly knowledge and are completely heedless of acquiring the knowledge of their noble religion; as these dark clouds of the irreligiousness loom overhead: the enemies of Islam are plotting to slander our fabulous religion; decadence is creeping into our Masjids; atheism and misguidance are in full swing; homes are turning into movie theatres; and Muslims are wasting their precious time in music, movies, alcohol, and gambling.

In these trying times, the Shaykh, The Founder of Dawat-e-Islami the Spiritual Guide, Amir-e-Ahl-e-Sunnat, the Honourable, Shaykh Abu Bilal Muhammad Ilyas Attar Qadiri Razavi Ziyae دَامَـتْ بَـرَكَـاتُـهُـمُ الْـعَـالِـيَـهْ revived the work of Calling to righteousness. He inspired each and every individual through his personal efforts and gave them an ambition that, as a Muslim, I must strive to reform myself and the people of the entire world!

In 1401 A.H., he founded this momentous organization, called Dawat-e-Islami, for the propagation of Quranic knowledge and Sunnah.   اَلْـحَمْـدُ لـِلّٰـه عَزَّوَجَلَّ, by Shaykhs endless efforts, in a short span, the work of Dawat-e-Islami has reached over 195 countries [at the time of writing] across the globe. There are more than 97 departments in which Dawat-e-Islami is working.  Hundreds of thousands of Devotees of the Rasūl have devoted themselves to calling to righteousness, [as if they have brought a cool breeze with them to comfort the hearts of the ailing Ummah].

In various countries, many non-Muslims are continuing to embrace the beautiful religion of Islam at the hands of the Muballighs [Preachers] of Dawat-e-Islami. By the diligent efforts of Amir-e-Ahl-e-Sunnat دَامَـتْ بَـرَكَـاتُـهُـمُ الْـعَـالِـيَـهْ, a righteous Madani revolution has entered into the lives of hundreds of thousands of Muslims, especially the young Muslims, who have become steadfast in performing the Farzḍ and Wajib matters in Islam. Furthermore, they crown their heads with green turbans [Imamah] and adorn their faces with beards, in accordance to the Sunnah of Sayyid-ul-Mursalin, the Prophet of mankind, the peace of our heart and mind, the most generous and kind, our beloved Rasūl صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم. These noble accomplishments of Amir-e-Ahl-e-Sunnat دَامَـتْ بَـرَكَـاتُـهُـمُ الْـعَـالِـيَـهْ are evident by the number of areas Dawat-e-Islami is working in. Many of these were direly needed for safeguarding the religion and faiths of the Ummah of the Exalted Prophet صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم

My sweet brothers and sisters, if you also want to change your life, please join Dawat-e-Islami. There is no membership. Sunnah inspiring Ijtima is held on every Thursday after Maghrib Prayer by Dawat-e-Islami all over the world. You are requested to attend it. Every body should made his mind that " I must strive to reform myself and the people of the entire world".

Hafiz Muhammad Ehsan Bashir, 1st year MBBS, Nishtar Medical College, Multan, Punjab, Pakistan.

Tuesday, 4 August 2015

یا رسول اللہ ﷺ کہنے سے بگڑتی ہے طبیعت تیری

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ.

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ آرٹیکل اوّل تا آخِر پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ایمان تازہ ہوجائے گا.

                 دُرُود شریف کی فضیلت

نبیوں کے سُلطان، رَحمتِ عالمیان، سردارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:
’’جس نے مجھ پر روزِ جُمُعہ دو سو ۲۰۰ بار دُرُودِ پاک پڑھا اُس کے ۲۰۰  سال کے گناہ مُعاف ہوں  گے‘‘ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی).

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  تیری   اٹکے  تو  وکیلوں  سے  کرے  استمداد
   یا رسول اللہ کہنے سے بگڑتی ہے طبیعت تیری

      اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگنا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کچھ لوگوں کے ذِہن میں یہ وَسوَسہ ہوسکتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی سے مدد مانگنی ہی نہیں چاہیے کیونکہ جب  اللہ عَزَّوَجَلَّ مدد کرنے پر قادِر ہے تو پھر غوثِ پاک یا کسی اوربُزُرگ سے مدد مانگیں ہی کیوں؟ جواباً  عرض ہے کہ یہ شیطان کا خطرناک ترین وار ہے اور اس طرح وہ نہ جانے کتنے لوگوں  کو گمراہ کردیتا ہے. حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی غیر سے مدد مانگنے سے منع ہی نہیں فرمایا، بلکہ قراٰنِ کریم میں جگہ بہ جگہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دوسروں  سے مدد مانگنے کی اجازت مَرحمت فرمائی ہے، ہر ہر طرح سے قادرِ مُطلَق ہونے کے باوُجود بذاتِ خود اپنے بندوں  سے دینِ حق کی مدد کیلئے ترغیب ارشاد فرمائی ہے. چُنانچِہ پارہ ٢٦ سورۂ مُحَمَّد کی آیت نمبر ٧ میں ارشاد ہوتاہے:

اِنۡ تَنۡصُرُوا اللہَ یَنۡصُرْکُمْ 

ترجَمۂ کنزالایمان: "اگر تم دینِ خدا (عَزَّوَجَلَّ)کی مدد کروگےاللہ(عَزَّوَجَلَّ) تمہاری مدد کرے گا".

    حضرت عیسیٰ نے دوسروں  سے مدد مانگی

حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنے حواریوں سے مدد طلب فرمائی، چُنانچِہ پارہ ٢٨ سُوْرَۃُ الصّف کی چودھویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

قَالَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوۡنَ نَحْنُ اَنۡصَارُ اللہِ

ترجَمۂ کنزالایمان: "عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) نے حواریوں  سے کہا تھا کون ہیں جو اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ) کی طرف ہوکر میری مدد کریں؟ حواری بولے ہم دینِ خدا (عَزَّ وَجَلَّ) کے مدد گار ہیں".

       حضرتِ موسیٰ نے بندوں  کا سہارا مانگا

حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو جب تبلیغ کے لیے فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا تو انہوں  نے بندے کی مدد حاصل کرنے کے لیے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ  میں  عرض کی:

وَاجْعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنْ اَہۡلِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ ہٰرُوۡنَ اَخِی ﴿ۙ۳۰﴾ اشْدُدْ بِہٖۤ اَزْرِیۡ ﴿ۙ۳۱﴾      (پ ۱٦، طٰہٰ: ۲۹،۳۱)

ترجَمۂ کنزالایمان: "اور میرے لئے میرے گھر والوں  میں  سے ایک وزیر کردے. وہ کون، میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) اس سے میر ی کمر مضبوط کر".

              نیک بندے بھی مددگا ر ہیں  

 پارہ ٢٨ سُوْرَۃُ التَّحْرِیْم کی چوتھی آیت ِ مبارکہ میں ارشاد باری عَزَّوَجَلَّ ہے:

فَاِنَّ اللہَ ہُوَ مَوْلٰىٰہُ وَ جِبْرِیۡلُ وَ صٰلِحُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ۚ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ﴿۴﴾

ترجَمۂ کنزالایمان: "تو بے شک اللہ( عَزَّ وَجَلَّ)ان کا مددگار ہے اور جبریل (علیہ السلام) اور نیک ایمان والے اوراس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں".

               انصار کے معنیٰ مددگار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! قراٰنِ پاک بالکل صاف صاف لفظوں میں بہ بانگِ دُہُل یہ اعلان کر رہا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو مددگار ہے ہی مگر باِذنِ پروَردَگار عَزَّوَجَل َّساتھ ہی ساتھ جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے مقبول بندے (انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام اور اولیائے عُظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی) اور فرشتے بھی مددگار ہیں. اب تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلََّّ یہ وَسوَسہ جڑ سے کٹ جائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی مدد کر ہی نہیں سکتا. مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو مسلمان مَکّۂ مکرَّمہ سے ہجرت کر کےمدینۂ منوَّرہ پہنچے وہ مُہاجر کہلائے اوران کے مددگار انصار کہلائے اور یہ ہر سمجھ دار جانتاہے کہ ’’انصار‘‘ کے لُغوی معنی ’’مددگار‘‘ ہیں.

؎      اللہ کرے دل میں  اُتر جائے مِری بات

                     اہل اللہ زندہ ہیں

اب شاید شیطان دل میں یہ "وسوسہ‘‘ ڈالے کہ زندوں سے مدد مانگنا تو دُرُست ہے مگر بعدِ وفات مدد نہیں مانگنی چاہیے. آیتِ ذَیل اور اس کے بعد والے مضمون پر غور فرمالیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس وَسوَسے کی جڑ بھی کٹ جائے گی. چُنانچِہ پارہ ٢ سُوْرَۃُ الْبَقْرَہ آیت ١٥٤ میں ارشاد ہوتاہے :

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ﴿۱۵۴﴾

ترجَمۂ کنزالایمان: "اورجوخدا (عزوجل) کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں".

                     انبیاء حیات ہیں  

 جب شُہَداء کی زندگی کا یہ حال ہے تو اَنبیاء کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام جوکہ شہیدوں  سے مرتبہ وشان میں  باِلْاِتِّفاق اعلیٰ اور برتر ہیں ان کے حیات (یعنی زندہ) ہونے میں کیوں کر شُبہ کیا جاسکتا ہے. حضرتِ سیِّدُنا امام بیہقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے حیاتِ اَنبیاء کے بارے میں ایک رِسالہ لکھا ہے اور ’’دلائلُ النُّبَّوۃ ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام شُہَداء کی طرح اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ  کے پاس زِندہ ہیں. 
(اَلْحاوی لِلفتاوی لِلسُّیوطی ج٢ ص٦٣ ،دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ  لِلْبَیْہَقِی ج٢ ص٣٨٨ دارالکتب العلمیۃ بيروت).

                      اولیاء حیات ہیں

حضرتِ شاہ ولیُّ اللہ مُحَدِّثِ دِہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی ’’ہَمعات‘‘ کے ہَمعہ نمبر ١١ میں گیارہویں والے غوثِ پاک رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی شانِ عَظَمت نشان بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

حضرتِ مُحیُ الدّین عبدُالقادِرجِیلانیرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اَنْدْ وَلِہٰذا گُفْتَہ اَنْدْکِہ اِیْشاں  دَرْ قَبْرِ خُوْدْ مِثْلِ اَحْیاء تَصَرُّف مِیْ کُنَنْد ۔
ترجمہ: وہ شیخ محیُ الدّین عبدُالقادِر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی ہیں، لہٰذا کہتے ہیں کہ آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی قبر شریف میں زِندوں کی طرح تصرُّف کرتے ہیں (یعنی زندوں  ہی کی طرح بااختیار ہیں). 
(ہَمعات ص ٦١ اکادیمیۃ الشاہ ولی اللہ الدھلوی بابُ الاسلام حیدر آباد).

بہرحال اَنبیاء کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام اور اولیاءِ عُظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی حیات (یعنی زندہ) ہوتے ہیں اور ہم مُردوں سے نہیں  بلکہ زندوں سے مدد مانگتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے انہیں حاجت روا اورمشکِل کُشا مانتے ہیں. ہاں اللہ عَزَّوَجَل کی عطا کے بِغیر کوئی نبی یا ولی ایک ذرّہ بھی نہیں دے سکتا نہ ہی کسی کی مدد کرسکتاہے.

      امام اعظم نے سرکار سے مدد مانگی

کروڑوں حنفیوں کے پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں مدد کی درخواست کرتے ہوئے ’’قصیدۂ نُعمان‘‘ میں عرض کرتے ہیں:

           یَا اَکْرَمَ الثَّقَلَیْنِ  یَا کَنْزَ  الْوَرٰی 
           جُدْ لِیْ بِجُوْدِکَ وَاَرْضِنِیْ بِرِضَاکَ
           اَنَا طَامِعٌ بِالْجُوْد ِ مِنْک َ لَمْ  یَکُنْ
           لِاَبِیْ حَنِیْفَۃَ  فِی  الْاَنَام ِ سِوَاکَ

یعنی اے جنّ و انس سے بہتر اور نعمت الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے خزانے! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو آپ کو عنایت فرمایا ہے اُس میں سے مجھے بھی عطا فرمائیے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو جو راضی کیا ہے آپ مجھے بھی راضی فرمائیے. میں آپ کی سخاوت کا امیدوار ہوں، آپ کے سوا ابوحنیفہؔ کا مخلوق میں کوئی نہیں.

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

              امام بوصیری نے مدد مانگی

حضرتِ سیِّدُنا امام شَرَفُ الدین بُوصیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے شُہرۂ آفاق قصیدہ بردہ شریف میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َسے مدد کی درخواست کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں:    

؎        یَااَکْرَمَ الْخَلْقِ مَا لِیْ مَنْ اَلُوذُ بِہٖ
           سِوَاکَ عِنْدَ حُلُوْلِ الْحَادِثِ الْعَمَمٖ

یعنی اے تمام مخلوق سے بہتر، میرا آپکے سوا کوئی نہیں جس کی میں پناہ لوں مصیبت کے وقت.
(قصیدہ بُردہ ص ٣٦).

امدادُ اللہ مہاجِر مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ِاپنے دِیوان ’’نالۂ امداد‘‘ میں عرض گزار ہیں  :           

؎ لگا  تکیہ  گناہوں  کا  پڑا  دن  رات  سوتا  ہوں
   مجھے اب خوابِ غفلت سے جگا دو یارسول اللہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدَ

طالب دعا : حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

Monday, 3 August 2015

کافر کا قبول اسلام

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ.

فرمان مصطفیٰ ﷺ:
"جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے" (مسلم ص ٢١٦ حدیث ٤٠٨).سبحان اللہ عزوجل!
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ (باب المدینہ کراچی) سے عاشِقانِ رسول کاایک 92 دن کا مَدَنی قافِلہ کولمبو کے سفر پر تھا. جس دن ضلع ”ایرو” 30 دن کیلئے مَدَنی قافِلے کی سفر پر روانگی تھی. اِس دوران ایک اسلامی بھائی ایک غیر مسلم نوجوان کو امیرِ قافِلہ کی خدمت میں لائے. امیرِ قافِلہ نے سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کے اعلیٰ کردار سے مُتَعَلِّق چند خوشبودار مَدَنی پھول پیش کر کے اس کو اسلام کی دعوت پیش کی. اِس پر اُس نے بعض سُوالات کئے جس کے جوابات دیئے گئے. اَلحمدُ لِلّٰہ عَزَّوّجَلَّ کم و بیش ایک گھنٹے کی انفرادی کوشِش کے بعد وہ غیر مسلم مُشرَّف بہ اسلام ہوگیا.

        کافرآجائیں گے  راہِ حق  پائیں  گے
        اِن شاءَ اللہ،  چلیں  قافِلے میں  چلو
        کُفر کا سر جُھکے دیں کا ڈنکا بجے
        ان شاء اللہ،  چلیں  قافلے  میں چلو

(فیضانِ سنت(جلد اوّل)باب آدابِ طعام، ص۲۶۱مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی).

     اللہ  کرم ایسا کرے تجھ پہ  جہاں  میں
     اے دعوت اسلامی تیری دهوم مچی ہو

میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ بھی گناہوں بهری زندگی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں بھی مدنی انقلاب برپا ہو جائے تو ابھی اور اسی وقت دعوت حق دعوت اسلامی کا دامن تھام لیں. زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں. دعوت اسلامی کے تحت ہر جمعرات بعد نمازِ مغرب سنتوں بهرا اجتماع ہوتا ہے.اپنے شہر میں ہونے والے اجتماع میں خود بھی شریک ہوں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں . ہر جمعرات بعد اجتماع ہزار ہا عاشقان رسول ﷺ مدنی قافلوں میں سفر کرتے ہیں. آپ سے بھی سفر کرنے کی مدنی التجا ہے.  اللہ تعالٰی عزوجل نے چاہا تو ہزاروں نیکیاں سیکھنے کو ملیں گی. ہر کوئی اپنا یہ ذہن بنا لے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ عزوجل.

طالب دعا :
حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان. 

محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ھوتا

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضى الله تعالى عنه.

فرمان مصطفیٰ ﷺ:
"جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے" (مسلم ص ٢١٦ حدیث ٤٠٨).سبحان اللہ عزوجل!
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

                          قابل رشک موت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محمد وسیم عطّاری (بابُ المدینہ نارتھ کراچی) سگِ مدینہ عُفِیَ عنہ (بانی دعوت اسلامی، امیر اھلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ) کے پاس تشریف لاتے تھے، بے چارے کے ہاتھ میں کینسر ہوگیا اور ڈاکٹروں نے ہا تھ کاٹ ڈالا. ان کے عَلاقے کے ایک اسلامی بھائی نے بتایا، وسیم بھائی شدّتِ درد کے سبب سخْت اَذِیّت میں ہیں . میں اَسپتال میں عِیادت کیلئے حاضِر ہوا اور تسلّی دیتے ہوئے کہا، دیوانے! بایاں ہاتھ کٹ گیا اس کا غم مت کرو. اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلََّّ دایاں ہاتھ تو مَحفوظ ہے اور سب سے بڑی سعادت یہ کہ اِنْ شَآء اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان بھی سلامت ہے. اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے انہیں کافی صابِر پایا، صِرْف مُسکَراتے رہے یہاں تک کہ بسترسے اُٹھ کر مجھے باہَر تک چھوڑنے آئے. رفتہ رفتہ ہاتھ کی تکلیف ختْم ہوگئی مگر بے چارے کا دوسرا امتحان شروع ہوگیا اور وہ یہ کہ سینے میں پانی بھر گیا، دَرْد و کَرْب میں دِن کٹنے لگے. آخِر ایک دِ ن تکلیف بَہُت بڑھ گئی، ذِکْرُ اللہ شروع کردیا۔سارا دِن اللہ، اللہ کی صداؤں سے کمرہ گونجتا رہا، طبیعت بَہُت زِیادہ تشویش ناک ہوگئی تھی، ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی کوشِش کی گئی مگر انکار کردیا، دادی جان نے فَرطِ شفقت سے گود میں لے لیا، زبان پرکَلِمَہ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللہ جاری ہوااور 22 سالہ محمد وسیم عطّاری کی روح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی.
                انا للہ وانا الیہ راجعون

جب مرحوم کو غُسل کیلئے لے جانے لگے تو اچانک چادر چِہرے سے ہٹ گئی، مرحوم کا چِہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھِلا ہواتھا، غُسل کے بعد چِہرہ کی بَہار میں مزید نِکھارآگیا.

£   محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ھوتا

تدفین کے بعد عاشِقانِ رسول نعتیں پڑھ رہے تھے، قَبْرسے خوشبو کی ایسی لَپٹیں آنے لگیں کہ مَشامِ جاں مُعَطّر ہوگئے مگر جس نے سونگھی اُس نے سونگھی. گھر کے کسی فرد نے انتِقال کے بعد خواب میں مرحوم محمد وسیم عطّاری کو پھولوں سے سجے ہوئے کمرے میں دیکھا، پوچھا، کہاں رہتے ہو؟ ہاتھ سے ایک کمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”یہ میرا مکان ہے یہاں میں بَہُت خوش ہوں”. پھر ایک آراستہ بستر پر لیٹ گئے. مرحوم کے والِد صاِحب نے خواب میں اپنے آپ کو محمد وسیم عطّاری کی قَبْر کے پاس پایا، یکایک قَبْر شَق ہوئی اور مرحوم سر پر سبز سبز عَمامہ سجائے ہوئے سفید کفن میں ملبوس باہَر نِکل آئے! کچھ بات چیت کی اور پھر قَبْر میں داخِل ہوگئے اور قَبْر دوبارہ بند ہوگئی.

        اللہ کرم ایسا  کرے تجھ  پہ  جہاں  میں
        اے دعوت اسلامی تیری دهوم مچی ہو

میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ بھی گناہوں بهری زندگی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں بھی مدنی انقلاب برپا ہو جائے تو ابھی اور اسی وقت دعوت حق دعوت اسلامی کا دامن تھام لیں. زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں. دعوت اسلامی کے تحت ہر جمعرات بعد نمازِ مغرب سنتوں بهرا اجتماع ہوتا ہے. اپنے شہر میں ہونے والے اجتماع میں خود بھی شریک ہوں اور دوسروں کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دیں. اللہ تعالٰی عزوجل نے چاہا تو ہزاروں نیکیاں سیکھنے کو ملیں گی. ہر کوئی اپنا یہ ذہن بنا لے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ عزوجل.

طالب دعا :
حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان . وابستہ شعبہ تعلیم دعوت اسلامی ملتان. 

ایک حیرت انگیز واقعہ

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ.

فرمان مصطفی ٰﷺ:
"جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے".  (مسلم ص ٢١٦  حدیث ٤٠٨). سبحان اللہ عزوجل!
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب بابُ المدینہ کراچی میں مُنْعَقد ہونے والے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع کی تیاّریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ مَدَنی قافِلے لانے کیلئے مُتَعَدَّد شہروں سے بابُ المدینہ کراچی کیلئے خُصوصی ٹرینوں کا سلسلہ تھا۔ انہیں دنوں ہمارے ایک عزیز فوت ہو گئے ۔ چند روز کے بعد گھر کے کسی فرد نے مرحوم کو خواب میں دیکھ کر جب حال پوچھا تو کہنے لگے، میں نے کراچی میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کی نیَّت سے خُصوصی ٹرین میں نِشَست بُک کروائی تھی۔ اور اﷲ عَزَّوَجَلَّ نے اِس سچّی نیّت کے سبب میری مغفِرت فرما دی۔

            رَحْمتِ حق “بہا” نہ می جوید
            رَحْمت ِ حق “بہانہ” می جوید

(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت ”بہا ” یعنی قیمت نہیں مانگتی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت تو ”بہانہ ”ڈھونڈتی ہے).
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے؟ اچھی نیَّت کا کس قَدَر بُلند رُتبہ ہے کہ عمل کرنے کا موقع نہ ملنے کے باوُجُود اجتماع میں شرکت کی نیَّت کرنے والے خوش نصیب کی مغفِرت کر دی گئی ۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،
" انسان کو چند روز کے عمل سے نہیں اچھی نِیّت سے جنّت حاصِل ہو گی".
(کیمیائے سعادت ج ۲ ص ۸۶۱)، (فیضانِ سنت(جلد اوّل)باب فیضانِ بسم اللہ،ص۹۶مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

       اللہ کرم ایسا کرے تجھ  پہ جہاں  میں
      اے دعوت اسلامی تیری دهوم مچی ہو

میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ بھی گناہوں بهری اندھیری وادی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ابھی اور اسی وقت دعوت حق دعوت اسلامی کا دامن تھام لیں. زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں. دعوت اسلامی کے تحت ہر جمعرات بعد نمازِ مغرب سنتوں بهرا اجتماع ہوتا ہے. خود بھی اس میں شریک ہوں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں. اللہ تعالٰی عزوجل نے چاہا تو ہزاروں نیکیاں سیکھنے کو ملیں گی. ہر کوئی اپنا یہ ذہن بنا لے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ عزوجل.

طالب دعا:
حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان. وابستہ شعبہ تعلیم دعوت اسلامی ملتان.


Monday, 27 July 2015

امام عشق و محبت رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تحریر: حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

فرمان مصطفیٰ ﷺ :
"جو مجھ پر روز جمعہ درود شریف پڑهے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا" (ضیائے درود و سلام ص ١١). سبحان اللہ عزوجل!
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

عشق رسالت کے ترجمان      امام  احمد  رضا  خان

اعلیٰ حضرت، امام اھلسنت، حسان الہند، مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضى الله تعالى عنه ١٠ شوال المکرم ١٢٧٢ھ بمطابق ١٤ جون ١٨٥٦ عيسوى کو بریلی شریف میں  پیدا ہوئے. فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ شمالی بھارت کے شہر بریلی کے ایک مشہور عالمِ دین تھے جن کا تعلق فقہ حنفی سے تھا. اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ شہرت میں اہم آپکی حضور ﷺ سے محبت، آپ ﷺ کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزارہا فتاویٰ کا ضخیم علمی مجموعہ جو ٣٠ جلدوں پر مشتمل فتاویٰ رضویہ کے نام سے موسوم ہے. فتاویٰ رضویہ کا پورا نام العطايا النبوية في الفتاویٰ رضویہ ہے. یہ بلند فقہی شاہکار ٢١٩٧٠ صفحات، ٦٨٤٧ سوالات کے جوابات اور ٢٠٦ رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمناً زیر بحث آئے ہیں.  برصغیر پاک و ہند میں اھلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتى ہے.

دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے کی. دو مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے. درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے. قرآن مجید کا اردو ترجمہ بھی کیا جو کنز الایمان (ایمان کا خزانہ) کے نام سے مشہور ہے. جس کی خوبصورتی کا انکشاف تاج قرآن کمپنی بھی کر چکی ہے.  علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا. رسول اکرم ﷺ کی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں. انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایک ہزار کے قریب کتب تصنیف کیں.

امام اھلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار برس کی ننھی عمر میں قرآن مجید مکمل ناظرہ پڑھ لیا تھا. چھ سال کی عمر میں منبر پر جم غفير کے سامنے میلاد شریف پڑھا. اردو، فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس ماہ چار دن کی عمر میں مکمل عالم دین ہوگئے. ١٤ شعبان المعظم ١٢٨٦ھ بمطابق ١٩ نومبر ١٨٦٩ء میں آپ کو عالم دین کی سند دی گئی اور اسی دن والد محترم نے مولانا کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتاویٰ نویسی کی خدمت انکے سپرد کر دی. جسے مولانا نے ١٣٤٠ھ بمطابق ١٩٢١ء اپنی وفات تک جاری رکھا. اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر شریعت میں سید نا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کے قدم بقدم ہیں تو طریقت میں سرکار غوث الاعظم رضى الله تعالى عنه کے نائب اکرم ہیں.

فاضل بریلوی ١٢٩٤ھ بمطابق ١٨٧٧ء میں اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ حضرت شاہ آل رسول رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ عاليہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے. مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بڑے بڑے علماء كرام آپ کے علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھ کر آپ کے نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد و پیشوا مانا ... تفصیل کے لیے دیکھیے مسعود ملت پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کتاب "فاضل بریلوی علماء حجاز کی نظر میں"

اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ساری زندگی اسلام کے خدمت اور سنیت کی اشاعت میں صرف فرمائی اور تقریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں جن میں فتاویٰ رضویہ بہت ہی ضخیم کتاب ہے. مولانا نے قرآن مجید کا صحیح ترجمہ اردو میں تحریر فرمایا جو عالم اسلام میں کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن کے نام سے جانا جاتا ہے.

آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے زمانے میں چند مٹھی بھر لوگوں کی قیادت میں انگریز اور دیگر باطل قوتوں کی مدد سے باطل فرقوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تها. آپ نے دین و شریعت کی حمایت میں ان سب باطل و گمراہ گروہوں سے تن تنہا لڑائی لڑ کر سب کے دانت کھٹے کرديے اور حق و باطل کو خوب واضح کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا. آپ کے فتاویٰ اور کتب کے زریعہ اللہ تعالٰی عزوجل نے ہزاروں بہکے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائی. بہت سے وہ علماء جو گمراہی کے سیلاب میں بہتے جارہے تھے،  آپ کی رہنمائی سے انہوں نے حق قبول کیا اور سیدھی راہ پر ہوگئے. آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت کا پرچم لہرایا اور مسلمانوں کو سرکار کی محبت و تعظیم کا سبق دیا اور گستاخان رسول ﷺ کی ایک نہ چلنے دی.

قرآن و حدیث، فقہ و منطق اور کلام وغیرہ میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی وسعت نظری کا اندازہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے فتاویٰ کے مطالعے سے ہی ہو سکتا ہے.آپ نے اردو، عربی، فارسی تین زبانوں میں نعت گوئی و منقبت نگاری کی.

آپ کا نعتیہ دیوان حدائق بخشش تین جلدوں میں ہے، پہلی دو جلدیں آپ کی حیات میں اور تیسری، بعد از وفات جمع کر کے شائع کی گئی، مگر اس میں رضا کا تخلص رکھنے والے ایک دوسرے عام سے شاعر کا عامیانہ کلام بھی غلطی سے شامل کر دیا گیا، جس پر کافی تنقید ہوئی، جس کو تحقیق کے بعد نکال دیا گیا. حدائق بخشش اردو نعتیہ شاعری کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی جس نے اپنے بعد آنے والے تمام نعت گوؤوں کو ادب کا جامہ پہنا دیا، ورنہ اس سے پہلے اردو نعت صرف عقیدت کے طور پر دیوان کے شروع میں شامل نظر آتی، مگر حدائق بخشش کے بعد نعت، اردو ادب کا ایک مستقل حصہ بن گئی. حدائق بخشش کی بہت سی نعتیں آج بھی مشہور و معروف ہے. مثلاً:

١. وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
٢. لم یات نظیرک فی نظر
٣. ان کی مہک نے دل کے غنچے کهلا دئیے ہیں
٤. سب سے اولی و اعلیٰ همارا نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام وغیرہ.

اور سب سے زیادہ خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ کا محبت و عقیدت و عشق مصطفیٰ صل اللہ علیہ والہ وسلم میں ڈوبا سلام "مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام" آج برصغیر پاک و ہند سمیت پوری دنیا میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ ہر جمعہ کے بعد اور ہر دینی محفل میں پڑھا جاتا ہے. اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ برصغیر پاک و ہند کا ہر بچہ خواہ اس کا تعلق اھلسنت گھرانے سے ہے یا دیوبندی، غیر مقلد یا شیعہ گھرانے سے وہ اس سلام سے ضرور واقف ہو گا.

آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا جو کہ اردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائق ہے۔ آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان" ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے حاشیہ لکھا ہے. کنز الایمان کا اب تک انگریزی، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ترجمہ کیا جا چکا ہے.

٢٥ صفر المظفر ١٣٤٠ھ بمطابق ٢٨ أكتوبر ١٩٢١ء کو جمعة المبارك کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق ٢ بج کر ٣٨ منٹ، عین اذان کے وقت ادھر مؤذن نے حی على الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار پر انوار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام ہے.

       ملک سخن کی شاہی تم  کو رضا  مسلم
       جس سمت آ گئے ہو سکے بٹها دیے ہیں

Saturday, 25 July 2015

نیلسن منڈیلا اعلیٰحضرت کے مرید ہو گئے تھے

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ. (پیدائش : ١٠ شوال المکرم ).

تحریر: خاکپائے اعلیٰحضرت حافظ محمد احسان بشیر عطاری رضوی، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

                    عقيدت كا رشتہ

فرمان مصطفیٰ ﷺ هے : " جو مجھ پر روز جمعہ درود شریف پڑهے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا" (ضیائے درود و سلام ص ١١). سبحان اللہ عزوجل!
   ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

جس نے لگائی ہر دل میں عشق احمد کی لگن
     وہ  امام  عاشقاں   احمد   رضا   خان   قادری

یہ رپورٹ انڈیا کے ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی،  تھوڑی بہت تخریج کے ساتھ حاضر خدمت ہے.

"دنیا بھر میں نسل پرستی تحریک کا مضبوط ستون کہے جانے والے نیلسن منڈیلا کا بریلی سے عقیدت کا گہرا رشتہ رہا ہے. چودہ سال پہلے انہی کی بدولت اعلیٰحضرت امام احمد رضا خاں رضى الله تعالى عنه کی فقہی کتاب فتاویٰ رضویہ کو افریقہ میں اہم مقام حاصل ہوا. اسے مسلمانوں کے شریعت سے جڑے فیصلوں کے لیے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں جگہ دی گئی. تب سے وہاں کے مسلمانوں میں طلاق اور تقسیم وغیرہ کے مسئلے اسی کتاب کی بنیاد پر حل ہو رہے ہیں.

♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡
فتاویٰٰ رضویہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اہم مقام رکھتا ہے. نیلسن منڈیلا نے اسی سے متاثر ہو کر جنوبی افریقی سپریم کورٹ میں اس کتاب کو جگہ دی. ان کا یہ فیصلہ قابل تعریف ہے.
★☆★☆★☆★☆★☆★☆★☆★☆
                
جنوبی افریقہ کا بریلی سے روحانی رشتہ رہا ہے. یہ رشتہ اس وقت مزید مضبوط ہو گیا، جب نسل پرستی ختم ہونے کے بعد جیل سے رہا ہو کر نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے صدر بنے. تب ان سے ڈربن میں رہنے والے اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے مفتی اعظم ہند الشاہ مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مرید مولانا عبد الہادی نے علماء کے ساتھ ملاقات کی. فتاویٰ رضویہ کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا. یہ بھی بتایا کہ اب سے پہلے سپریم کورٹ کے ایک دو فیصلوں میں اس کتاب کو کوڈ کیا جا چکا ہے. تب نیلسن منڈیلا نے فتاویٰ رضویہ کے انگریزی ترجمہ کو پڑھا اور وہ اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلم کے قائل ہو گئے. بطور ثبوت انہوں نے فتاویٰ رضویہ کو جنوبی افریقی سپریم کورٹ میں شامل رکھنے کا حکم جاری کر دیا. اس پر عمل بھی ہوا. ڈربن کے باشندہ مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے خلیفہ مولانا عبد الحمید ان دنوں عرس میں شامل ہونے بریلی آئے ہوئے ہیں. وہ بتاتے ہیں اس کے بعد سے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں مسلمانوں سے جڑے معاملے پیش ہونے پر فتاویٰ رضویہ کے انگریزی ترجمہ کو پڑھنے کے بعد حل نکالا جاتا ہے.
            اسے فقہ کی انسائیکلوپیڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے. .اس کتاب میں اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضى الله عنه نے ان سوالات کے جوابات دیئے ہیں، جن کا تعلق قرآن پاک و نبی کریم ﷺ کی زندگی سے ہے.  فتاویٰ رضویہ کا پورا نام العطايا النبوية في الفتاوى رضویہ  ہے. فتاویٰ رضویہ (تخریج شدہ) ٣٠ جلدوں پر مشتمل ہے. یہ بلند فقہی شاہکار ٢١٩٧٠ صفحات، ٦٨٤٧ سوالات کے جوابات اور ٢٠٦ رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمناً زیر بحث آئے ہیں".

میرے آقا اعلیٰحضرت امام اھلسنت، مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضى الله تعالى عنه نے پیارے پیارے مصطفیٰ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے دین کا دفاع کیا اور لوگوں کے دلوں میں عشق نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی لگن پیدا کی تو میرے اللہ نے ان کا نام پوری دنیا میں بلند کر دیا. بیشک وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت.
كسی نے کیا خوب کہا ہے :

~     وادی رضا کی کوہ  ہمالہ  رضا  کا  ہے
        جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے