Showing posts with label امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، حافظ محمد احسان بشیر، اسلام، دین، مجدد اعظم.. Show all posts
Showing posts with label امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، حافظ محمد احسان بشیر، اسلام، دین، مجدد اعظم.. Show all posts

Saturday, 25 July 2015

نیلسن منڈیلا اعلیٰحضرت کے مرید ہو گئے تھے

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ. (پیدائش : ١٠ شوال المکرم ).

تحریر: خاکپائے اعلیٰحضرت حافظ محمد احسان بشیر عطاری رضوی، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

                    عقيدت كا رشتہ

فرمان مصطفیٰ ﷺ هے : " جو مجھ پر روز جمعہ درود شریف پڑهے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا" (ضیائے درود و سلام ص ١١). سبحان اللہ عزوجل!
   ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

جس نے لگائی ہر دل میں عشق احمد کی لگن
     وہ  امام  عاشقاں   احمد   رضا   خان   قادری

یہ رپورٹ انڈیا کے ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی،  تھوڑی بہت تخریج کے ساتھ حاضر خدمت ہے.

"دنیا بھر میں نسل پرستی تحریک کا مضبوط ستون کہے جانے والے نیلسن منڈیلا کا بریلی سے عقیدت کا گہرا رشتہ رہا ہے. چودہ سال پہلے انہی کی بدولت اعلیٰحضرت امام احمد رضا خاں رضى الله تعالى عنه کی فقہی کتاب فتاویٰ رضویہ کو افریقہ میں اہم مقام حاصل ہوا. اسے مسلمانوں کے شریعت سے جڑے فیصلوں کے لیے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں جگہ دی گئی. تب سے وہاں کے مسلمانوں میں طلاق اور تقسیم وغیرہ کے مسئلے اسی کتاب کی بنیاد پر حل ہو رہے ہیں.

♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡♥♡
فتاویٰٰ رضویہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اہم مقام رکھتا ہے. نیلسن منڈیلا نے اسی سے متاثر ہو کر جنوبی افریقی سپریم کورٹ میں اس کتاب کو جگہ دی. ان کا یہ فیصلہ قابل تعریف ہے.
★☆★☆★☆★☆★☆★☆★☆★☆
                
جنوبی افریقہ کا بریلی سے روحانی رشتہ رہا ہے. یہ رشتہ اس وقت مزید مضبوط ہو گیا، جب نسل پرستی ختم ہونے کے بعد جیل سے رہا ہو کر نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے صدر بنے. تب ان سے ڈربن میں رہنے والے اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے مفتی اعظم ہند الشاہ مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مرید مولانا عبد الہادی نے علماء کے ساتھ ملاقات کی. فتاویٰ رضویہ کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا. یہ بھی بتایا کہ اب سے پہلے سپریم کورٹ کے ایک دو فیصلوں میں اس کتاب کو کوڈ کیا جا چکا ہے. تب نیلسن منڈیلا نے فتاویٰ رضویہ کے انگریزی ترجمہ کو پڑھا اور وہ اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلم کے قائل ہو گئے. بطور ثبوت انہوں نے فتاویٰ رضویہ کو جنوبی افریقی سپریم کورٹ میں شامل رکھنے کا حکم جاری کر دیا. اس پر عمل بھی ہوا. ڈربن کے باشندہ مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے خلیفہ مولانا عبد الحمید ان دنوں عرس میں شامل ہونے بریلی آئے ہوئے ہیں. وہ بتاتے ہیں اس کے بعد سے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں مسلمانوں سے جڑے معاملے پیش ہونے پر فتاویٰ رضویہ کے انگریزی ترجمہ کو پڑھنے کے بعد حل نکالا جاتا ہے.
            اسے فقہ کی انسائیکلوپیڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے. .اس کتاب میں اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضى الله عنه نے ان سوالات کے جوابات دیئے ہیں، جن کا تعلق قرآن پاک و نبی کریم ﷺ کی زندگی سے ہے.  فتاویٰ رضویہ کا پورا نام العطايا النبوية في الفتاوى رضویہ  ہے. فتاویٰ رضویہ (تخریج شدہ) ٣٠ جلدوں پر مشتمل ہے. یہ بلند فقہی شاہکار ٢١٩٧٠ صفحات، ٦٨٤٧ سوالات کے جوابات اور ٢٠٦ رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمناً زیر بحث آئے ہیں".

میرے آقا اعلیٰحضرت امام اھلسنت، مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضى الله تعالى عنه نے پیارے پیارے مصطفیٰ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے دین کا دفاع کیا اور لوگوں کے دلوں میں عشق نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی لگن پیدا کی تو میرے اللہ نے ان کا نام پوری دنیا میں بلند کر دیا. بیشک وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت.
كسی نے کیا خوب کہا ہے :

~     وادی رضا کی کوہ  ہمالہ  رضا  کا  ہے
        جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے


Friday, 24 July 2015

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ.   (پیدائش : ١٠ شوال المکرم ).
تحریر : سگ رضا حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

فرمان مصطفیٰٰ ﷺ :
"جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے". (مسلم ص 216 حدیث 408)
   ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

دنیا کا عجب رنگ ہے، اس میں کئی لوگ آندھی کی طرح آئے، بگولے کی طرح چهائے اور بلبلے کی طرح اٹھ گئے

~        مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
          زمیں کها گئی آسماں  کیسے کیسے

کسی کی مدت شہرت حیات فانی پر محیط، کسی کا قصہ تشہیر موت و وصال پر ختم، کسی کی عمر بزرگی بہت مختصر، کسی کی نیک نامی قصہ پارینہ _____ مگر ہاں کچھ ایسے بھی ہیں جن کی حرمت، شہرت، رفعت، شوکت، عظمت، سطوت سب لافانی و جاودانی ہے________  امام اھلسنت، مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش ١٠ شوال المکرم/١٢٧٢ هجري/١٤ جون/١٨٥٦ عیسوی كو بريلى شريف بھارت میں ہوئی.

~     مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
        تب خاک کے پردوں سے انسان نکلتے ہیں

 احمد رضا کو فوت ہوئے کئی سال گزر گئے مگر ان کی توقیر، تشہیر بدستور ہے بلکہ پہلے سے بہت زیادہ-
                 ___________________

~   ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
     بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جہاں کسی مخدوم کا تذکرہ، کسی ممدوح کا چرچا ہوا، اقبال کا یہ شعر ضرور پڑھا گیا. ستم بالائے ستم! ہر مخدوم اس کی تشریح، ہر ممدوح اس کی تفسیر بنا. نتیجتاً شعر کی ارزانی ہوئی، لوگوں نے مستحق شعر کو بھی کسی کا "بزرگ اور معظم" سمجھ لیا اور یوں حقدار کو استحقاق سے محروم رکھا__________ جب میں نے یہ شعر پڑھا تو احمد رضا کا تصور ذہن میں ابهرا، جب احمد رضا کو پڑھا تب اس شعر کا مفہوم ذہن میں اترا. میں شعر کو احمد رضا سے اور احمد رضا کو شعر سے، ایک لمحے کے لیے بھی الگ نہ کر سکا________ شاید اس لیے کہ حقدار کو اب اس کا حق مل چکا تھا
                 ____________________

دنیائے تنوع میں متنوع علوم و فنون ہیں، کوئی کسی علم کا عالم، کوئی کسی فن کا ماہر، عام صاحبانِ علم و فن ایک دوسرے کے قدر دان، ایک دوسرے کے محتاج، ایک دوسرے کے ممدوح________ یہ صاحبان کسب کا حال ہے_________ جو صاحبان وہب ہیں، ان کی بات دیگر ہے، ان کی دنیا الگ ہے، وہ جملہ علوم و فنون کے اسپیشلسٹ اور اپنی ذات میں تنہا انجمن ہیں، سب ان کے قدرداں، سب ان کے محتاج، سب ان کے مداح________ یہ حقیقت مجھ پر تب آشکارا ہوئی جب میں نے احمد رضا کا مطالعہ کیا، اسے قرآن مجید کی زبان میں "علم لدنی" کہا گیا ہے_______ سچ تو یہ ہے کہ اس لفظ کا مفہوم مجھے جس تعجب خیز اور حیرت انگیز شخصیت نے سمجھایا وہ احمد رضا کی ذات ہے. اب حال یہ ہے کہ میں اس لفظ کو احمد رضا کے حوالے سے اور احمد رضا کو اس لفظ کے حوالے سے جانتا ہوں.
                ____________________

احمد رضا بریلی کے تھے،اسی مناسبت سے بریلوی کہلائے، ہندوستان، پاکستان کے علماء فضلاء بریلوی کہلاتے ہیں، حالانکہ وہ بریلی کے نہیں، لیکن ان کی نسبت احمد رضا کی فکر و نظر اور ارادت سے ہے، اس لیے بریلوی کہلاتے ہیں. اس نسبت کو کسی فرقہ پر محمول کر لینا لا علمی، نا سمجھی، کم مائیگی، بے بساطی، کٹ حجتی اور رضا دشمنی ہے. دنیا نے احمد رضا کو "اعلیٰحضرت" کہا. حاسدوں کو برا لگا، بات ذہن و دل سے نکلی، نوک زبان پر آگئی ____________  اعتراض یہ تھا، صرف حضرت کہا ہوتا "اعلیٰحضرت" کیوں کہا؟ محبوں نے ہر چند سمجھایا، لیکن کچھ نہ سنا، مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا_________ اس لقب کی آڑ میں احمد رضا کو نہ جانے کیا کچھ کہا، غرض دشنام و اتہام کا ایک دفتر کهول دیا.
"اعلیٰحضرتٰ اور قائد اعظم"__________ یہ ہم معنیٰ و مترادف القاب ہیں مگر ستم دیکھئیے "اعلیٰحضرت"  کے پردے میں احمد رضا کو برا کہنے والے "قائد اعظم" کے پردے میں محمد علی جناح کو برا نہ کہ سکے.
               ____________________

احمد رضا کا نام سنتے ہی تاریخ ہندوستان نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے. اللہ اللہ! احمد رضا ایک طرف، دنیا جہان کے فتنے دوسری طرف____________ ان سے لڑائی، نبرد آزمائی، ان سے مقابلہ، ان سے جھگڑا، بڑے دل گردے کا کام تھا. بڑے حوصلے کی بات تھی
£     دشمنوں کا جمگھٹا تھا تنہا تھا وہ مرد خدا

                احمد رضا تمام عمر قلم و قرطاس سے جنگ کرتے رہے،کتنوں کو شکست فاش دی کتنوں سے ہتھیار ڈلوائے، کتنوں کو گرفتار کیا اور حب نبوی ﷺ کی جیل میں ڈال دیا____________ چند ایک نہیں سینکڑوں کتابیں لکھ دیں، جو سب انتخاب بلکہ حسن انتخاب ہیں. اور باوجود اس کے ستائش کی تمنا اور صلہ کی پرواہ سے قطعی بے نیاز، اپنے علم و ہنر پر غرور، نہ اپنی تحقیق پر ناز، شہرت و تشہیر سے کوسوں میل دور مصروف تگ و تاز__________

سچ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے:
"بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے شروع میں اس امت کے لیے ایسے لوگ اٹھاتا رہے گا. جو اس کے لیے اس کے دین کو تازہ کریں گے" (سنن ابو داؤد).
              ____________________

احمد رضا عالم اسلام کی وہ مظلوم شخصیت ہیں، جو اپنے اور غیر دونوں کے ظلم کا شکار ہوئی، بیگانوں کے ظلم کا شکار کون نہیں ہوتا؟ مگر رونا اپنوں کے ظلم کا ہے_________ اپنوں نے احمد رضا کا تعارف ایسا نہ کرایا، جو وقت اور زمانے کا اقتضا تها __________
                 احمد رضا پچپن سے زائد علوم و فنون کے ماہر تھے اور ان میں سے کئی ایک کے موجد بھی، وہ جن جن علوم کے علامہ تھے، علمائے حاضر تو کجا، علمائے معاصر بھی ان کی ابجد سے واقف نہ تھے، الا ماشاءاللہ.
                ڈاکٹر سر ضیاء الدین مرحوم کے نام سے ایک دنیا واقف ہے، مرحوم مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر تھے، ریاضی میں بڑا درک اور کمال حاصل تھا، ایشیاء کے بلند پایہ ریاضی دانوں میں شمار تھا، ریاضی میں اس قدر تبحر کے باوصف، مرحوم خود کو احمد رضا کا شاگرد سمجھتے تھے.
             یہ ایک مثال ہے، بقیہ علوم و فنون میں بھی احمد رضا کی حیثیت استادانہ تھی. سچ کہا ہے:

£     "جس سمت آ گئے ہو سکے بٹها دیے ہیں"

کسی نے کیا خوب کہا ہے:

~      ڈال دی قلب میں عظمت مصطفیٰ ﷺ
        سیدی اعلیٰحضرت پہ لاکھوں سلام