Thursday, 29 October 2015

ایک نصیحت آموز واقعہ

انتساب: امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام.

فرمان مصطفیٰ ﷺ :
"جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے". ( مسلم ص ٢١٦ حدیث ٤٠٨ ). سبحان اللہ عَزَّوَجَلّ!

   صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیثِ پاک:
"بازار میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کر نے والے کے لیے ہر بال کے بدلے قِیامت میں نور ہوگا".
(شُعَبُ الْاِیْمان لِلْبَیْہَقِیّ، ج ۱، ص ۴۱۲، الحدیث: ۵۶۷ )

                  گانوں کی عاشقہ

عالمی مجلس مشاورت کی ایک رکن اسلامی بہن کا بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیشِ خدمت ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میری زندگی کے انمول ایام گناہوں کی نذر ہو رہے تھے، گانے باجے سننا اور فلمیں ڈرامے دیکھنا اور گانے یاد کرنا وغیرہ میری عادتِ بد میں شامل تھا، افسوس! یوں ہی میں اپنے آپ کو جہنم کی گہری کھائیوں کی طرف دھکیل رہی تھی کہ میری قسمت کا ستارہ چمکا اور گناہوں بھری زندگی سے نجات کی سبیل کچھ اس طرح بنی کہ میرے چھوٹے بھائی کے ایک دوست نے انفرادی کوشش کر کے انہیں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے آگاہ کیا، ساتھ ساتھ سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے، اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح کی کوشش کرنے کا مدنی ذہن دیا، مزید دعوتِ اسلامی کے بارے میں بتایا کہ جس طرح دعوتِ اسلامی کے تحت اسلامی بھائیوں کے سنتوں بھرے اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے اسی طرح اسلامی بہنوں کی اصلاح کے لیے بھی ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کی ترکیب ہوتی ہے، جن میں تلاوت و نعت کے بعد فکرِ آخرت اور عشقِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر مشتمل بیانات، آخر میں ذکر اور دعائیں ہوتی ہیں، جس کی برکت سے نہ صرف اسلامی بہنوں کو گناہوں سے چھٹکارہ ملتا ہے بلکہ وہ اپنے گناہوں سے تائب ہو کر راہِ سنت پر گامزن اور صلوٰۃ و سنّت کی پابند ہو کر سنّتیں عام کرنے میں مشغول ہو جاتی ہیں، ہمارے گھر میں بھی دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام اسلامی بہنوں کا ہفتہ وار اجتماع ہوتا ہے، آپ بھی اپنے گھر والوں کو اس میں بھیجا کریں، میرے بھائی پر ان کی باتوں کا اس قدر اثر ہوا کہ جب وہ گھر آئے تو ہمیں سنّتوں بھرے اجتماع کے بارے میں بتایا اور شرکت کرنے کا مدنی ذہن دیا اور وقت مقررہ پر ہمیں سنّتوں بھرے اجتماع میں لے گئے، میں زندگی میں پہلی بار ایسے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوئی جہاں پر موجود اسلامی بہنیں باپردہ اور مدنی برقع پہنے ہوئے تھیں، آج کے اس پرُفتن دور میں حیا کی عملی تصویر دیکھ کر دل کو وہ فرحت و مسرت نصیب ہوئی جسے بیان کرنا مشکل ہے، اجتماع میں تلاوت و نعت کے بعد اصلاحِ اعمال پر مشتمل ایک سنّتوں بھرا بیان ہوا، جسے میں نے ہمہ تن گوش ہو کر سننے کی سعادت حاصل کی، اس کے بعد اجتماعی ذکر ہوا اور پھر دعا شروع ہوئی تو میں نے بھی اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی مقدس بارگاہ میں توبہ کی، الغرض مجھے سنّتوں بھرا مدنی ماحول اس قدر اچھا لگا کہ رفتہ رفتہ میں نے سنتوں بھرے اجتماع کی پابندی شروع کر دی، جس کی برکت یوں ظاہر ہوئی کہ میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا، گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت دل میں محسوس کرنے لگی، بے پردگی کی نحوست مجھ پر آشکار ہوگئی، حیا سے معمور دعوتِ اسلامی کی پُرنور فضائیں کیا ملی میری سوچ و فکر پر مدنی رنگ چڑھ گیا، فیشن پرستی کا بھوت سر سے اترگیا، گانے باجوں اور فلموں ڈراموں سے نفرت ہو گئی اور میں دعوتِ اسلامی کی ہوکر رہ گئی، اچھے ماحول کی برکت سے نیکی کی دعوت کی محبت سے سرشار ہوگئی، پہلے ڈائری میں گانے لکھ کر اپنی ہلاکت کا سامان کرتی تھی مگر اب اپنی ڈائری میں بیانات لکھ کر دیگر اسلامی بہنوں کو گناہوں کی ہلاکت خیزیوں سے آگاہ کرتی ہوں، کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ میں سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں داخل ہوگئی، بس اب ایک ہی دُھن ہے کہ اپنی قبر وآخرت کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں جمع کروں اور دنیا سے اپنا ایمان سلامت لے کر جاؤں، اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے ثابت قدمی عطا فرمائے. آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم..

  صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے مذکورہ اسلامی بہن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل بے پردگی کے فعلِ حرام جہنم میں لے جانے والے کام میں مبتلا تھی، مگر جب انہیں دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول میسر آیا تو ان کا دل خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ ور عشقِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روشن ہو گیا، بے پردگی کی ہلاکت سے آشنا ہوگئی، لہٰذا انہوں نے پردے کا اہتما م شروع کردیا، یاد رکھیے اسلام نے خواتین کو بڑا مقام ومرتبہ عطا کیا ہے، انہیں پردے کا حکم د یا ہے تاکہ وہ گندی نظروں سے بچ سکیں، مگر افسوس! مسلمان خواتین کی ایک تعداد حکم ِالٰہی کی نافرمانی کرکے اپنی قبر و آخرت برباد کرنے میں مگن ہے، انہیں غور کرنا چاہئے کہ آخر کب تک یہ دنیا میں زندہ رہیں گی، یقیناً ایک د ن مرنا ہے، اندھیری قبر میں اُترنا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضرہونا ہے، اگر بے پردگی کے فعلِ حرام کے سبب وہ ناراض ہوگیا، اس کی رحمت شاملِ حال نہ ہوئی اور جہنم کے عذاب میں جھونک دیا گیا تو غور کیجیے کہ کس طرح جہنم کی آگ برداشت کرسکیں گی، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے وسیلے سے
مسلمان خواتین کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں حیاسے معمور زندگی بسرکرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم.
اگر آپ بھی گناہوں بهری اندھیری زندگی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ابھی اور اسی وقت دعوتِ حق دعوتِ اسلامی کا دامن تھام لیں. زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں. دعوتِ اسلامی کے تحت ہر جمعرات بعد نمازِ مغرب سنتوں بهرا اجتماع ہوتا ہے.خود بھی اس میں شریک ہوں اور دوسروں کو بھی شرکت کی دعوت دیں. ہر جمعرات بعد اجتماع ہزار ہا عاشقانِ رسول ﷺ مدنی قافلوں میں سفر کرتے ہیں . آپ سے بھی سفر کرنے کی مدنی التجا ہے. اللہ تعالٰی عزوجل نے چاہا تو ہزاروں نیکیاں سیکھنے کو ملیں گی. ہر کوئی اپنا یہ ذہن بنا لے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ عزوجل.

   صَلُّوۡا عَلَى الۡحَبِيۡب!   صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى مُحَمَّد

طالب دعا : حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

اور آخر کار دل چوٹ کھا گیا.......

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

               دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شَہَنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن و جمال، دافِعِ رَنج و مَلال، صاحِبِ جُود و نَوال، رسولِ بے مِثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مرتبہ باہَر تشریف لائے تو میں بھی پیچھے ہو لیا. آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک باغ میں داخِل ہوئے اور سَجدہ میں تشریف لے گئے. سجدے کو اتنا طویل کر دیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رُوحِ مبارَکہ قبض نہ فرمالی ہو. چُنانچِہ میں قریب ہو کر بغور دیکھنے لگا. جب سرِ اقدس اُٹھایا تو فرمایا: اے عبدالرحمن! کیاہوا؟ میں نے اپنا خدشہ ظاہِرکر دیا تو فرمایا: جبرئیلِ امین نے مجھ سے کہا: کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ بات خوش نہیں کرتی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ َّ فرماتا ہے: جو تم پر دُرُودِ پاک پڑھے گا میں اُس پر رَحمت نازِل فرماؤں گا اور جو تم پر سلام بھیجے گا میں اُس پر سلامتی اُتاروں گا.
(مسند احمد، حدیث عبدالرحمن بن عوف الزھری،۱/ ۴۰۶، حدیث: ۱۱۶۶۲).
  
   صَلُّوۡا عَلَى الۡحَبِيۡب!   صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى مُحَمَّد

باب المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ بچپن ہی سے نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ نعتِ رسولِ مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پڑھنے کا شوق تھا، مادر علمی میں بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا لکھا ہوا نعتیہ کلام پڑھا کرتی، اجتماعِ میلاد میں بھی محبت و عقیدت سے شرکت کرنے کا معمول تھا. مگر بدقسمتی سے علم دین سے دوری کے سبب فلمیں ڈرامے، گانے باجے دیکھنے سننے کے فعل بد میں گرفتار تھی، فلموں ڈراموں کے بے ہودہ مناظر دیکھ کر اپنی آخرت برباد کر رہی تھی، میری زندگی میں سنّتوں کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک دن دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ چند اسلامی بہنیں مدنی برقع سجائے نیکی کی دعوت دینے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائیں اور دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی، مگر افسوس! میں نے ان خیرخواہ اسلامی بہنوں کی دعوت قبول کرنے کے بجائے نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر حیلے بہانے بنا کرٹال دیا، مگر قربان جائیے! ان کے حسنِ اخلاق پر انہوں نے نیکی کی دعوت دینا ترک نہ کیا، وہ وقتاً فوقتاً ہمارے گھر آتی رہیں، اس طرح کافی عرصہ گزر گیا، آخر ان کی استقامت کے سامنے میرے حیلے بہانے سب ناکارہ ہو گئے، ایک دن میں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ہامی بھر لی اور مقررہ دن سنّتوں بھرے اجتماع میں پہنچ گئی، وہاں غافل دلوں کو بیدار کرنے والے سنّتوں بھرے بیان اور اجتماع کے ایمان افروز مناظر سے قلب پر چھائی گناہوں کی سیاہی دور ہو گئی اورنیکیوں بھری راہ اختیار کرنے کا عزم مصمم کر لیا.
اسلامی بہنوں کی مسلسل انفرادی کوشش کی برکت سے میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگئی، خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ اور عشقِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سرشار اسلامی بہنوں کی رفاقت کیا ملی میری زندگی میں عمل کی بہار آ گئی، مزید اسلامی بہنوں نے مدنی انعامات پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی، میں نے بھی باعمل بننے کے جذبے کے تحت مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرنا شروع کر دیا، جس کی برکت سے مدنی برقع سجانے کی سعادت مل گئی، دعوتِ اسلامی کے فیضان سے رفتہ رفتہ میرے علم و عمل میں اضافہ ہوتا گیا، مدنی کاموں میں حصہ لینا میرا معمول بن گیا، مدنی انعامات پر عمل کرنے کے ایسے ثمرات ملے کہ میں ترقی کے زینے طے کرتی چلی گئی، تادمِ بیان عالمی مجلس مُشاوَرَت کی رکن ہونے کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت سرانجام دے رہی ہوں.
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اِستِقامت کے ساتھ نیکی کی دعوت دینے کی برکت سے فلموں ڈراموں اور گانے باجوں کی شائقہ تائب ہو گئی، ہمیں اِستِقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور اخلاص کے ساتھ نیکی کی دعوت کاسلسلہ جاری رکھنا چاہئے. جس بات کی تکرار ہوتی ہے وہ پتھر دل کو بھی موم بنا لیتی ہے مزید یہ کہ جب بھی ہم نیکی کی دعوت پیش کریں گے ہمیں ہربات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب ملے گا چنانچہ حضرت موسی عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کیا: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! جو اپنے بھائی کو بُلائ. اُسے نیکی کا حکم کرے اور بُرائی سے روکے. اُس کی جزا کیا ہے؟ فرمایا: میں اُس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اُسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیا آتی ہے.
                                 (مکاشفۃ القلوب، ص ۴۸)

الحمد للہ عزوجل اسلامی بھائیوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں لاکھ اسلامی بہنیں بھی شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال ؔقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے خون پسینے سے سینچی ہوئی تبلیغ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘کی دیوانیاں بن گئی ہیں. گلے میں ڈوپٹہ لٹکا کر شاپنگ سینٹروں اور مخلوط تفریح گاہوں میں بھٹکنے والیوں کو کربلا والی عفت مآب شہزادیوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھُن کی شرم وحیا کی وہ برکتیں نصیب ہوئیں کہ مدنی برقع ان کے لباس کا جزو لایَنْفک (یعنی نہ جدا ہونے والاحصہ ) بن گیا. اَلْحَمْد ُلِلّٰہ عَزَّوَجَلََّّ بیشمار مقامات پر اسلامی بہنوں کے بھی شرعی پردے کے ساتھ سنّتوں بھرے اجتماعات ہوتے ہیں اور مدرسۃ المدینہ (بالغات) بھی لگتے ہیں. اَلْحَمْد ُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مدنی منیوں اور اسلامی بہنوں کو قراٰنِ کریم حفظ و ناظرہ کی مفت تعلیم دینے کے لیے اور اسلامی بہنوں کو عالمہ بنانے کے لیے متعدد جامعات قائم ہیں. اگر آپ بھی گناہوں بهری زندگی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ابھی اور اسی وقت دعوتِ حق دعوتِ اسلامی کا دامن تھام لیں. ہر کوئی اپنا یہ ذہن بنا لے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ عزوجل.

   صَلُّوۡا عَلَى الۡحَبِيۡب!   صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى مُحَمَّد

طالب دعا : حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

Sunday, 25 October 2015

ناجائز رسم و رواج اور مسلمانوں کی حالتِ زار

انتساب : سید الشہداء، امام عالی مقام سیِّدُنا امام حسین رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ اور تمام شہدائے کربلا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے نام. ُ

فرمان مصطفی ٰﷺ:
"مجھ پر درود شریف پڑهو، اللہ عزوجل تم پر اپنی رحمت بھیجے گا". (الکامل لابن عدی ج ٥ ص ٥٠٥). سبحان اللہ عَزَّوَجَلّ!

  صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدّ

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ١٩٢ صفحات پر مشتمل کتاب "سوانح کربلا" صفحہ ٥٦ تا ٥٧ پر صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں : جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: جب مصر فتح ہوا تو ایک روز اہل مصر نے حضرت سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ سے عرض کی : اے امیر! ہمارے دریائے نیل کی ایک رسم ہے جب تک اس کو ادا نہ کیا جائے دریا جاری نہیں رہتا. انہوں نے استفسار فرمایا: کیا؟ کہا: ہم ایک کنواری لڑکی کو اس کے والدین سے لے کر عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجا کر دریائے نیل میں ڈالتے ہیں. حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ نے فرمایا : اسلام میں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور اسلام پرانی واہیات رسموں کو مٹاتا ہے. پس وہ رسم موقوف رکھی (یعنی روک دی) گئی اور دریا کی روانی کم ہوتى گئی یہاں تک کے لوگوں نے وہاں سے چلے جانے کا قصد (یعنی ارادہ) کیا، یہ دیکھ کر حضرت سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ نے امیرُالْمُؤمِنِین خلیفہ ثانی حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ کی خدمت میں تمام واقعہ لکھ بھیجا، آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: تم نے ٹھیک کیا بیشک اسلام ایسی رسموں کو مٹاتا ہے. میرے اس خط میں ایک رقعہ ہے اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا. حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ کے پاس جب امیرُالْمُؤمِنِین رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ کا خط پہنچا اور انہوں نے وہ رقعہ خط میں سے نکالا تو اس میں لکھا تھا: " (اے دریائے نیل! ) اگر تو خود جاری ہے تو نہ جاری ہو اور اللہ تعالٰی نے جاری فرمایا تو میں واحد و قهار عَزَّوَجَلَّ سے عرض گزار ہوں کہ تجھے جاری فرما دے". حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈالا ایک رات میں سولہ ١٦ گز پانی بڑه گیا اور یہ رسم مصر سے بالکل موقوف ہو گئی.
  ( العظمة لابی الشیخ الاصبهانی ص ٣١٨ رقم ٩٤٠).

چاہیں تو اشاروں سے اپنے، کایا ہی پلٹ دیں دنیا کے
یہ شان ہے خدمت گاروں کی، سردار کا عالم کیا ہوگا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح اہل مصر میں دریائے نیل کو جاری رکھنے کے لیے رسم بد جاری تھی اسی طرح دور حاضر میں بھی بعض قبیح اور ناجائز رسومات زور پکڑتے جا رہی ہیں اور یہ خلاف شرع رسومات مسلمانوں کو پستی و بربادی کے عمیق گڑھے کی طرف دهکیلتی اور سنّت رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دُور کرتی چلی جا رہی ہیں. دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ١٧٠ صفحات پر مشتمل ایک زبردست کتاب "اسلامی زندگی" صفحہ ١٢ تا ١٦ پر مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان نے بری رسومات اور مسلمانوں کے بگڑے ہوئے حالات کی جو کچھ کیفیات بیان فرمائی ہیں ان کا خلاصہ کچھ یوں ہے: آج کون سا دل ہے جو مسلمانوں کی موجودہ پستی اور ان کی موجودہ ذلت و خواری اور ناداری پر نہ دکھتا ہو اور کون سی آنکھ ہے جو ان کی غربت، مفلسی، بے روزگاری پر آنسو نہ بہاتی ہو! حکومت ان سے چهنی، دولت سے یہ محروم ہوئے، عزت و وقار ان کا ختم ہو چکا، زمانے بھر کی مشکلات کا شکار مسلمان بن رہے ہیں، ان حالات کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، مگر دوستو! فقط رونے دھونے سے کام نہیں چلتا بلکہ ضروری یہ ہے کہ اس کے علاج پر غور کیا جائے. علاج کے لیے چند چیزیں سوچنی چاہئیں. (١) اصل بیماری کیا ہے؟ (٢) اس کی وجہ کیا؟ مرض کیوں پیدا ہوا؟ (٣) اس کا علاج کیا ہے؟ (٤) اس علاج میں پرہیز کیا کیا ہے؟ اگر ان چار باتوں میں غور کر لو تو سمجھ لو کہ علاج آسان ہے. کئی لیڈران قوم اور پیشوایان ملک نے اقوامِ مسلم کے علاج کا بیڑا اٹھایا مگر ناکامی ہی ملی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے جس کسی نیک بندے نے مسلمانوں کو ان کا صحیح علاج بتایا تو بعض نادان مسلمانوں نے اس کا مذاق اڑایا، اس پر پھبتیاں کسیں زبان طعن و دراز کی، غرض کہ صحیح طبیبوں کی آواز پر کان نہ دهرا.
             مسلمانوں کی بادشاہت گئی، عزت گئی، دولت گئی، وقار گیا، صرف ایک وجہ سے وہ یہ کہ ہم نے شریعت مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی چھوڑ دی، ہماری زندگی اسلامی زندگی نہ رہی. ان تمام نحوستوں کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف، نبیِّ مُکَرَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شرم اور آخرت کا ڈر نہ رہا. اعلیٰ حضرت، مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، حسان الہند، الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :

دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرم نبی،  خوف خدا،  یہ بھی نہیں وہ بھی  نہیں

       مسجدیں ہماری ویران، مسلمانوں سے سینما و تماشے آباد، ہر قسم کے عیوب مسلمانوں میں موجود ، ناجائز رسمیں ہم میں قائم ہیں، ہم کس طرح عزت پا سکتے ہیں! جیسے کسی نے کہا ہے :

    وائے  ناکامی!  متاعِ   کارواں   جاتا   رہا
     کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

                       ٣ بیماریاں

مسلمانوں کی اصل بیماری تو احکام خدا و سنت مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو چھوڑنا ہے، اب اس مرض کی وجہ سے اور بہت سی بیماریاں پیدا ہو گئیں. مسلمانوں کی بڑی بڑی تین بیماریاں ہیں: اول روزانہ نئے نئے مذہبوں کی پیداوار اور ہر آواز پر مسلمانوں کا آنکھیں بند کر کے چل پڑنا. دوسرے مسلمانوں کی آپس کی ناچاقیاں، عداوتیں اور مقدمہ بازیاں. تیسرے جاہل لوگوں کی گهڑی ہوئی خلاف شرع یا فضول رسمیں، ان تین قسم کی بیماریوں نے مسلمانوں کو تباہ کر ڈالا، برباد کر دیا، گھر سے بے گھر بنا دیا، مقروض کر دیا غرض کہ ذلت کے گڑھے میں دهکیل دیا.

              مذکورہ بیماریوں کا علاج

پہلی بیماری کا علاج یہ ہے کہ ہر بدمذہب کی صحبت سے بچو، اس عالمِ حق اور صحیح العقیدہ شخص کے پاس بیٹھو جس کی صحبت فیض اثر سے سرکار مدینہ، قرار قلب و سینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عشق اور اتباع شریعت کا جذبہ پیدا ہو.
       دوسری بیماری کا علاج یہ ہے کہ اکثر فتنہ و فساد کی جڑ دو چیزیں ہیں: ایک غصہ اور اپنی بڑائی اور دوسرے حقوقِ شرعیہ سے غفلت. ہر شخص چاہتا ہے کہ میں سب سے اونچا رہوں اور سب میرے حقوق ادا کریں مگر میں کسی کا حق ادا نہ کروں اگر ہماری طبیعت میں سے غرور و تکبر نکل جائے، عاجزی اور تواضع پیدا ہو جائے، ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے تو اِنشاءاللہ عَزَّوَجَلَّ کبھی جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے.
       تیسری بیماری یہ ہے کہ ہمارے اکثر مسلمانوں میں بچے کی پیدائش سے لے کر مرنے تک مختلف موقعوں پر ایسی تباہ کن رسمیں جاری ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں. شادی بیاہ کی رسموں کی بدولت ہزاروں مسلمانوں کی جائیدادیں، مکانات، دکانیں سودی قرضے میں چلی گئیں اور بہت سے اعلیٰ خاندانوں کے لوگ آج کرایہ کے مکانوں میں گزر کر رہے ہیں اور ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں. اپنی قوم کی اس مصیبت کو دیکھ کر میرا دل بهر آیا، طبیعت میں جوش پیدا ہوا کہ کچھ خدمت کروں. روشنائی کے چند قطرے حقیقت میں میرے آنسوؤں کے قطرے ہیں، خدا کرے کہ اس سے قوم کی اصلاح ہو جائے، میں نے یہ محسوس کیا کہ بہت سے لوگ ان شادی بیاہ اور دیگر فضول رسموں سے بیزار تو ہیں مگر برادری کے طعنوں اور اپنی ناک کٹنے کے خوف سے جس طرح ہو سکتا ہے قرض لے کر ان جاہلانہ رسموں کو پورا کرتے ہیں. کوئی تو ایسا مرد مجاہد ہو جو بلا خوف و خطر ہر ایک کے طعنے برداشت کر کے تمام ناجائز و حرام رسموں پر لات مار دے اور سنّت سرکار کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو زندہ کر کے دکھا دے کہ جو شخص سنّت کو زندہ کرے اسے سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے. کیونکہ شہید تو ایک دفعہ تلوار کا زخم کها کر دنیا سے پردہ کر جاتا ہے مگر یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نیک بندہ عمر بھر لوگوں کی زبانوں کے زخم کھاتا رہتا ہے. واضح رہے کہ مروجہ رسمیں دو قسم کی ہیں: ایک تو وہ جو شرعاً ناجائز ہیں. دوسری وہ جو تباہ کن ہیں اور بہت دفعہ ان کے پورا کرنے کے لیے مسلمان سودی قرض کی نُحوست میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے. حالانکہ سود کا لین دین گناہ کبیرہ ہے اور یوں یہ رسومات بہت ساری آفات میں پھنسا دیتی ہیں، ان سے دوری ہی میں آفیت ہے.
              ( اسلامی زندگی ص ١٢ تا ١٦ بتصرف).

         شادیوں  میں  مت  گناہ  نادان  کر
         خانہ  بربادی  کا  مت  سامان   کر
         چھوڑ دے سارے غلط رسم و رواج
         سنتوں  پر  چلنے  کا  کر  عہد  آج
         خوب   کر   ذکر  خدا  و  مصطَفٰے
         دل مدینہ ان  کی  یادوں  سے  بناَ

طالب دعا : حافظ محمد احسان بشیر،فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان. 

  صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدّ