Tuesday, 13 October 2015

ایک ایمان افروز واقعہ

بیاد : مجدد دین و ملت، ثانی ابو حنیفہ، حامی سنت، ماحی بدعت، مجدد اعظم، امام اھلسنت، اعلیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ.

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ ایمان افروز واقعہ اوّل تا آخِر پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ایمان تازہ ہوجائے گا.

                 دُرُودُ شریف کی فضیلت

نبیوں کے سُلطان، رَحمتِ عالمیان، سردارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:
"جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ عزوجل اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے". (مسلم ص ٢١٦ حدیث ٤٠٨). سبحان اللہ عزوجل!

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

                    مدینے کا مسافِر

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بابُ المدینہ (کراچی) کے عَلاقہ نیا آباد کے ایک مُبلّغِ دعوتِ اسلامی کے بیان کا لبِّ لباب ہے کہ میرے والِدِ بُزُرْگوار حاجی عبدُالرّحیم عطّاری (پٹنی) جن کی عمر کم و بیش ٧٠ سال تھی. ابتِدائی دَور دُنیا کی رنگینیوں کی نَذْر رہا مگر پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا. ١٩٩٥ء میں جب دوسری بار حج کا مُژْدَہ جانفِزا ملا تو ان کی خوشی قابلِ دیدتھی. جیسے جیسے روانگی کا وقْت قریب آرہا تھا، خوشی دو چند ہوتی جارہی تھی. آخر ان کی خوشیوں کی معراج کا وقت قریب آگیا. رات 4:00 بجے ایئرپورٹ کی طرف روانگی تھی. پوری رات خوشی خوشی تیاری میں مشغول رہے، مہمانوں سے گھر بھرا ہوا تھا تقریباً ً3:00 بجے اِحْرام برابر میں رکھ کر اپنے کمرے میں لیٹ گئے. میں بھی لیٹ گیا، ابھی بمشکِل پندرہ مِنَٹ ہوئے ہوں گے کہ میرے کمرے کے دروازے پر دستک پڑی. چَونک کر دروازہ کھولا تو سامنے والِدہ پریشانی کے عالَم میں کھڑی فرمارہی تھیں، تمہارے والِد صاحِب کی طبیعت خراب ہو گئی ہے. میں بَعُجْلَت تمام پہنچا تو والِد صاحِب بے قراری کے ساتھ سینہ سَہلا رہے تھے، فوراً اَسپتال لے جایا گیا ڈاکٹر نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے. گھر میں کُہرام مچ گیا کہ کچھ ہی دیر بعد سفرِ مدینہ کیلئے روانگی ہے اور والِدصاحِب کو یہ کیاہوگیا! افسوس طیّارہ والِد صاحِب کو لئے بِغیر ہی سُوئے مدینہ پرواز کرگیا.
         والِدِمحترم ٥ دن اَسپتال میں رہے. اِس دَوران مزید ٤ مرتبہ دل کادَورہ پڑا. مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی بَرَکت سے ہوش کے عالَم میں اُن کی ایک بھی نماز قَضاء نہ ہوئی. جب بھی نَماز کا وَقت آتا تو کان میں عرض کردی جاتی، نَماز پڑھ لیں آپ فوراً آنکھ کھول دیتے. تَیَمُّم (تَ، یَمْ،مُمْ) کرا دیا جاتا اور آپ نَقاہَت کے باعِث اشارے سے نَماز پڑھ لیتے. آخِری ”اٹیک” پر پھر بے ہوش ہوگئے. عِشاء کی اذان پر آنکھیں جھپکیں تو میں نے فوراً عرض کیا، ابّا جان نَماز کیلئے تَیَمُّم کروادوں، اشارے سے فرمایا، ہاں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے تَیَمُّم کروایا اور والِد صاحب نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے مگر پھر بے ہوش ہوگئے. ہم گھبرا کر دوڑے اور ڈاکٹر کو بلالائے. فوراً ًI.C.U میں لے جایا گیا، چند مِنَٹ بعد ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ آپ کے والد صاحب کا انتِقال ہوگیا ہے مگر وہ بڑے خوش نصیب تھے کہ اُنہوں نے بُلند آواز سے کلمہ شریف لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللہ پڑھنے کے بعد دم توڑا.
           ایک سیِّد زادے نے والِد مرحوم کو غسل دیا. چُونکہ والِد صاحِب کو اُنگلیوں پر گن کر اَذکار پڑھنے کی عادت تھی لہٰذا آپ کی اُنگلی اُسی انداز میں تھی گویا کچھ پڑھ رہے ہیں، بار بار اُنگلیاں سیدھی کی جاتیں. مگر دوبارہ اُسی انداز پر ہوجاتیں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ کثیر اسلامی بھائی جنازے میں شریک ہوئے۔
         اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے بھائی کی بھی والِد صاحِب کے ساتھ حج پر جانے کی ترکیب تھی. وہ حج کی سعادت سے بہرہ مَند ہوئے. بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ میں نے مدینہ مُنوَّرہ میں رو رو کر بارگاہِ رسالت صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں عرض کی کہ میرے مرحوم والِد کا حال مجھ پر مُنکَشِف ہو، جب رات کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ والِد بُزرُگوار اِحْرام پہنے تشریف لائے اور فرما رہے ہیں، ”میں عمرہ کی نیّت کرنے (مدینے شریف) آیا ہوں، تم نے یاد کیا تو چلا آیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں بَہُت خوش ہوں”. دوسرے سال میرے بھتیجے نے مسجِدُ الْحرام شریف کے اندر کعبۃُ اللہ شریف کے سامنے اپنے دادا جان یعنی میرے والِد مرحوم حاجی عبدالرحیم عطّاری کو عَین بیداری کے عالَم میں اپنے برابر میں نَماز پڑھتے دیکھا. نماز سے فارِغ ہوکر بَہُت تلاش کیا مگر نہ پاسکے.

مدینے کا  مسافِر  سِندھ  سے  پَہُنچا  مدینے  میں 
قدم رکھنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی سفینے میں
              
(مدینے کا مسافر، ص ۳ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی).

      اللہ کرم ایسا کرے  تجھ  پہ  جہاں  میں
       اے دعوت اسلامی تیری دهوم مچی ہو

میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ بھی گناہوں بهری اندھیری وادی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ابھی اور اسی وقت دعوت حق دعوت اسلامی کا دامن تھام لیں. زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں. دعوت اسلامی کے تحت ہر جمعرات بعد نمازِ مغرب سنتوں بهرا اجتماع ہوتا ہے. خود بھی اس میں شریک ہوں اور دوسروں کو بھی اس میں شریک ہونے کی دعوت دیں.ہر جمعرات بعد اجتماع ہزار ہا عاشقان رسول ﷺ مدنی قافلوں میں سفر کرتے ہیں. آپ سے بھی سفر کرنے کی مدنی التجا ہے. اللہ تعالٰی عزوجل نے چاہا تو ہزاروں نیکیاں سیکھنے کو ملیں گی. ہر کوئی اپنا یہ ذہن بنا لے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ عزوجل.

طالب دعا : حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

Sunday, 11 October 2015

پیکر شرم و حیا ( سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ آرٹیکل اوّل تا آخِر پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ایمان تازہ ہوجائے گا.

              دُرُود شریف کی فضیلت

نبیوں کے سُلطان، رَحمتِ عالمیان، سردارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے: ’’جس نے مجھ پر روزِ جُمُعہ دو سو ۲۰۰ بار دُرُودِ پاک پڑھا اُس کے ۲۰۰ سال کے گناہ مُعاف ہوں گے‘‘.
                                 (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ١٨ ذُوالحِجَّۃِ الْحرام ٣٥ سنِ ہجری کو اللہُ عَزَّوَجَل کے پیارے نبی، مکّی مَدَنی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جلیلُ القَدْر صَحابی عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نہایت مظلومیَّت کے ساتھ شہید کئے گئے. آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خُلَفائے راشِدین [یعنی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صِدّیق، حضرت سیِّدُنا عمر فاروق، حضرت سیِّدُناعثمان ِغنی، حضرت سیِّدُنا علی المرتضی (رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن)] میں تیسرے خلیفہ ہیں. آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کُنْیَت ’’ابو عَمْرو‘‘ اور لقب جامع القراٰن ہے نیز ایک لقب ’’ذُوالنُّورَین‘‘ (دو نور والے)  بھی ہے، کیونکہ اللہُ غَفُور عَزَّ وَجَل کے نور، شافعِ یومُ النُّشور، شاہِ غَیور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی دو شہزادیاں یکے بعد دِیگرے حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نکاح میں دِی تھیں۔ ؎

     نُور کی سرکار سے پایا دو شالہ نُور کا
     ہو مبارَک تم کو  ذُوالنُّورَین  جوڑا  نور کا
                                    (حدائقِ بخشش شریف)

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آغازِ اسلام ہی میں قَبولِ اسلام کر لیا تھا، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ’’صاحِبُ الْھِجْرَتَیْن‘‘ (یعنی دو ہجرتوں والے) کہا جاتا ہے کیونکہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پہلے حبشہ اور پھر مدینۃُ الْمنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی طرف ہجرت فرمائی.

                   دو بار جنَّت خریدی

امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شانِ والا بَہُت بُلند وبالا ہے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مبارَک زندگی میں نبیِّ رَحْمت، شفیعِ اُمّت، مالِکِ جنّت ، تاجدارِ نُبُوَّت، شَہَنْشاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َسے دو مرتبہ جنّت خریدی، ایک مرتبہ ’’بیرِرُومہ‘‘ یہودی سے خرید کر مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وَقْف کر کے اور دُوسری بار ’’جَیْشِ عُسْرَت‘‘ کے موقع پر ۔چُنانچِہ’’ سُنَنِ تِرمِذی‘‘ میں ہے:
"حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرحمن بن خَبّاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ میں بارگا ہِ نَبَوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں حاضِر تھا اور حُضورِ اکرم، نور ِمُجَسَّم ،رسولِ محترم، رَحْمتِ عالَم ، شاہِ بنی آدم، نبیِّ مُحْتَشَم، سراپا جُود و کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان کو ’’جَیشِ عُسْرَت‘‘ (یعنی غَزوۂ تَبوک ) کی تیّاری کیلئے ترغیب ارشاد فرما رہے تھے. حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عَفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اُٹھ کر عَرْض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پالان اور دیگر مُتَعَلِّقَہ سامان سَمیت سو ۱۰۰ اُونٹ میرے ذِمّے ہیں. حُضور سراپا نور، فیض گَنجور، شاہِ غَیُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان سے پھر تَرغِیباً فرمایا. تو حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ دوبارہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں تمام سامان سَمیت دوسو ۲۰۰ اُونٹ حاضِر کرنے کی ذِمّہ داری لیتا ہوں. دو جہاں کے سلطان، سرورِ ذیشان، محبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان سے پھر تَرغِیباً ارشاد فرمایا تو حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں مع سامان تین سو ۳۰۰ اُونٹ اپنے ذمّے قَبول کرتا ہوں. راوی فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ حُضورِ انور، مدینے کے تاجور، شافِعِ مَحْشر، بِاِذنِ ربِّ اکبر غیبوں سے باخبر، محبوبِ داوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ سن کر مِنبرِ مُنَوَّر سے نیچے تشریف لاکر دو مرتبہ فرمایا:  ’’ آج سے عثمان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) جوکچھ کرے اُس پر مُواخَذَہ (یعنی پوچھ گچھ) نہیں.‘‘             
                         (تِرْمِذی ج۵ ص۳۹۱حدیث ۳۷۲۰)

      اِمامُ الاَسخِیاء! کردو عطا جذبہ سخاوت کا!
      نکل جائے ہمارے دل سے حُبِّ دولتِ فانی

   صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

                ٩٥٠ اُونٹ اور ٥٠ گھوڑے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل دیکھا گیا ہے کچھ حضرات دوسروں کی دیکھا دیکھی جذبات میں آ کر چندہ لکھوا تو دیتے ہیں مگر جب دینے کی باری آتی ہے تو ان پر بھاری پڑ جاتا ہے حتّٰی کہ بعض تو دیتے بھی نہیں! مگر قربان جائیے محبوبِ مصطَفٰے، سیِّدُ الْاَسْخیاء، عثمانِ باحیا رضی اللہ تعالٰی عنہ کے جُود و سخا پر کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے اعلان سے بَہُت زیادہ چندہ پیش کیا چُنانچِہ مُفسّر ِشَہیر، حکیمُ الامّت، حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیث پاک کے تَحْت فرماتے ہیں: خیال رہے کہ یہ تو اُن کا اعلان تھا مگر حاضِر کرنے کے وَقت آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے ٩٥٠ اُونٹ، ٥٠ گھوڑے اور  ١٠٠٠ اشرفیاں پیش کیں ، پھر بعد میں ١٠ ہزار اشرفیاں اور پیش کیں. (مفتی صاحب مزید فر ماتے ہیں ) خیال رہے کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پہلی بار میں ایک ١٠٠ کا اعلان کیا، دُوسری بار ١٠٠ اونٹ کے علاوہ اور ٢٠٠ کا، تیسری بار اور ٣٠٠ کا کل ٦٠٠ اُونٹ (پیش کرنے) کا اعلان فرمایا.
                            (مراٰۃ المناجیح ج ۸ ص ۳۹۵)

    مجھے گر مل گیا بحرِ سخا کا ایک بھی قطرہ
    مِرے آگے زمانے بھر کی ہوگی ہیچ سلطانی

  صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

                غذا میں مثالی سادگی

حضرتِ سیِّدُناشُرَ حْبِیْل بن مسلم  رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ لوگوں کو امیروں والا کھانا کھلاتے اور خود گھر جا کر سرکہ اور  زیتون پر گزارہ کرتے.
                (اَلزُّہْد لِلامام اَحمد ص ۱۵۵ حدیث ۶۸۴).

      کبھی سیدھا ہاتھ شَرْمْ گاہ کو نہیں لگایا

امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: جس ہاتھ سے میں نے رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کی وہ (یعنی سیدھا ہاتھ ) پھر میں نے کبھی بھی اپنی شَرْمْ گاہ کو نہیں لگایا.
                     ( ابن ماجہ ج۱ ص ۱۹۸حدیث ۳۱۱).

حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے نہ تو زمانۂ جاہِلیّت میں کبھی بدکاری کی اور نہ ہی اسلام قَبول کرنے کے بعد.              
                                (حلیۃُ الاولیاء ج ۱ ص ۹۹).

          بند کمرے میں بھی نِرالی شَرْم و حیا

حضر تِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدُنا عُثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شرم و حیا کی شدّت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کسی کمرے میں ہوں اور اُس کا دروازہ بھی بند ہو تب بھی نہانے کے لئے کپڑے نہ اتارتے اورحیا کی وجہ سے کمر سیدھی نہ کرتے تھے.‘‘  
                  (حِلْیۃُ الاولیاء ج ۱ ص ۹۴ حدیث ۱۵۹).

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

               اپنے مَدْفن کی خبر دیدی!

حضر تِ سیِّدُ نا امام مالِک علیہ رحمۃ اللہِ الملک فرماتے ہیں کہ امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان ِغنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک مرتبہ مدینۃُ الْمنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے قبرِستان ’’جنَّتُ البقیع‘‘ کے اُس حصّے میں تشریف لے گئے جو ’’حَشِّ کَوْکَب‘‘ کہلاتا تھا، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہاں ایک جگہ پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’عنقریب یہاں ایک شخص دفْن کیا جائے گا‘‘. چُنانچِہ اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہا دت ہو گئی اور باغیوں نے جنازہ ٔمبارَکہ کے ساتھ اس قَدَر اُودھم بازی کی کہ نہ روضۂ منوَّرہ کے قریب دَفْن کیا جا سکا نہ جنَّتُ البقیع کے اُس حصّے میں مدفون کیے جاسکے جو صَحابۂ کِبار (یعنی بڑے صحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان) کا قبرستان تھا بلکہ سب سے دُور الگ تھلگ ’’حَشِّ کَوْکَب‘‘ میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  سپردِ خاک کئے گئے جہاں کوئی سو چ بھی نہیں سکتا تھا کیو نکہ اُس وقت تک وہا ں کوئی قبر ہی نہ تھی.
(کراماتِ صحابہ ص ۹۶، الریاِّضُ النَّضرۃ ج ۳ ص ۴۱ وغیرہ).

        اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
        محبوبِ خدا یار ہے  عثمانِ غنی  کا
                                                 (ذوقِ نعت)

طالب دعا : حافظ محمد احسان بشیر، فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس، نشتر میڈیکل کالج، ملتان، پنجاب، پاکستان.

Imam Ahmad Raza Khan In The Eyes Of Ex Vice Chancellor University Of Karachi Sindh - Pakistan

Dedicated To : Imam Ahlesunnat, A'ala Hazrat, The Great Mujaddid of 14th Century, Shah Ahmad Raza Khan Fazil Bareilvi

Allah - beginning with the name of - the Most Gracious, the Most Merciful.

The Holy Prophet stated:
"O people! Without doubt, the one to attain salvation quickly on the Day of Judgement from its horrors and accountability will be the one amongst you who will have recited Salat upon me in abundance in the world". (Firdaus -ul-Akhbar, Page 375, vol. 5, Hadith 8210).

[Late Mr. Ishtiaque Hussain Qureshi Ex-Minister of Education Government of Pakistan and Vice
Chancellor University of Karachi Sindh - Pakistan] :
Books and treatises, written by Imam Ahmed Raza, are nearly one thousand in number. The impact of his personality and work upon his followers is so immense that any other contemporary metaphysician could not attract his followers. In the beginning of the Khilafat Movement, the Ali Brother visited him to seek his signature on the Fatwa, regarding the non-cooperation movement. Imam Ahmed Raza said: “Mawlana there is a difference between your and my politics. You are a supporter of the Hindu Muslim Unity, but I am an opponent. When the Imam Saheb felt that the Ali Brothers have become dejected, he said, Mawlana I am not against the political freedom of the Muslims, but I oppose the Hindu Muslim Unity”.
For this opposition, the great reason was that the supporters of the (Hindu-Muslim) Unity, with their
arguments good or bad, had flown away so far that a religious scholar (alim-e-deen) could not support this unity.
Mawlana Ahmed Raza Khan Bareilvi raised objections on some writings and actions of Mawlana Abdul Bari Farangi Mahali, who has himself fairly confused in these words; “I commit many a sins, knowingly or unknowingly, hut I am ashamed of them. Verbally, practically and in writing, committed such matters for which I never thought that those were sins. But Mawlana Ahmed Raza Khan maintain them as a divergence or betrayal from Islam and hence accountability is unavoidable, and as there is no decision or example left by the forerunners so I recant and affirm my full confidence in the decision and thinking of Mawlana
Ahmed Raza Khan".
(Ma‘arif-e-Raza, Karachi, Vol 1986, Page 83).

Wednesday, 23 September 2015

دل کو دہلا دینے والی سچی کہانی

تحریر تو پتہ نہیں کس کی ہے لیکن سیدھی دل پہ لگی....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔--------------
جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔
اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔
امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔‘
عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔
آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔
چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔
پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔
پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کو پٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اور مہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندر یا ریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔
بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!
ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟ ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔
کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔
تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی اور ہمیں یہیں چھوڑ گئیں۔
   ***** ***** ***** ***** ***** *****
تمام احباب, رمضان, عیدین اور دیگر خوشیوں میں غرباء یتیموں, مساکین اور اپنے آس پاس سفید پوش لوگوں کو بھی شریک کریں جو غربت کے باوجود سوال نہیں کرتے.